کلیات ساغر : ساغر صدیقی

By: ساغر صدیقیMaterial type: TextTextSeries: 1Publisher: : , Description: pages U/700DDC classification: 891.4391 س ا غ
Contents:
(نعتیں) لبوں پہ جس کے محمد کا نام رہتا ہے، یثرب کی رہگذار ہوا درہائے آرزو، دل ونظر میں لیے عشق مصطفٰی آو، اے کاش وہ دن کب آئیں گے، چمک جائےگا تشنگی کا نگینہ، غم کے ماروں کا آسرا تم ہو،آنکھ گلابی منتظر ہے!، ہے تقدیس شمس وقمر سبز گنبد، مائل جورسب خدائی ہے، جب بھی نعت حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کہتا ہوں، یہ کہتی ہیں فضائیں زندگی دو چار دن کی ہے، لیتا ہوں نام خلد کا طیبہ نگر کے بعد، ڈوبنے والوں نے جب نام محمد لے لیا، نہ ہوتا در محمد کا تو دیوانے کہاں جاتے، جس طرف چشم محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اشارے ہوگئے، ہمیں جو یادمدینے کا لالہ زار آیا، سرمایہ حیات ہے سیرت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی، جاری ہے دو جہاں پہ حکومت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی، محمد باعث حسن جہاں ایمان ہے میرا، بزم کونین سجانے کے لیے آپ آئے، گلوں کے اشارے دعاکررہے ہیں، اُس کی لوری کے لیے لفظ کہاں سے لاؤں، (غزلیں) گل ہوئی شمع شبستاں چاند تارے سوگئے، ہم بے خود سرشار سدا زندہ رہیں گے، خاک ہوئے پروانے جل کے، ایسی تجلیاں کہاں ہیں آفتاب میں، ہرتمنا کا چہرہ شفق فام تھا، زندگی رقص میں ہے جھومتی ناگن کی طرح، پھول چاہے تھے مگرہاتھ میں آئے پتھر، ٹرپ کرسوز دل کوجلوہ ساماں کرلیا میں نے، گزرگوں کی دعائیں مل رہی ہیں، ہم خاک نشیں خاک بسر شہر میں تیرے، دُکھ درد کی سوغات ہے دئنیا تری کیا ہے، مسکراؤ بہار کے دن ہیں، میرے چمن کو جہاں میں یہ سرفرازی ہے، شراب تاب کے شیشے کا کاگ کھولا ہے، راہ پر شورسے منزل دار سے، اگرچہ ہم جارہے ہیں محفل سے نالہ دل فگار بن کر، مآل نغمہ ماتم فروخت ہوتا ہے!روشنی ہمیں سے منزل ہستی کے مرحلے، غم کے مجرم کوشی کے مجرم ہیں، بہار سرووسمن فسردہ گلوں کی نکہت تڑپ رہی ہے، آنکھ روشن ہے جیب خالی ہے، دیارلالہوسروسمن سے گزرے ہیں، کوئی تتلی ہے نہ جگنو آہ شام بیکسی، اے تغیر زمانہ یہ عجیب دل لگی ہے، شمع اس راہ پہ چلی ہے ابھی، اس میں شامل دشت وصحرا اور ویرانے کی بات، شعلہ سامان کھلونوں سے بہل جاتا ہے، دستور یہاں بھی اندھے ہیں، سبق تلخی حیات سے گھبرا کے پی گیا، خوشاکہ کی پانچ بہاران ہے زندگی اپنی، تہذیب بے نقاب کی آنکھیں نکال دو، ہم بڑی دور سے آئیں ہیں تمہاری خاطر، نگا معیشت لہورورہی ہے، تاروں سے میرا جام بھرومیں نشے میں ہوں، دوجہانوں کی خبررکھتے ہیں، وقت کی عمر کیا بڑی ہوگی، ہرشے ہے پرملال بڑی تیزدھوپ ہے، چاک دامن کو جو دیکھا تو ملا عید کا چاند، ذرا کچھ اور قربت کے زیرداماں لڑکھڑاتے ہیں، زخم دل پر مباردیکھا، چاندنی شب ہے ستاروں کی ردائیں سی لو، کوئی نالہ یہاں رسانہ ہوا، فضائےنیم شبی کہہ رہی ہے سب اچھا ہے، چراغ طور جلاؤ! بڑا اندھیرا ہے، کب سمان تھا بہار سے پہلے، پوچھا کسی نے حال کسی کا توروڈئیے، نالہ حدود کوئے رسا سے گزرگیا، محفلیں لٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا، بھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجے، روداد محبت کیا کہے، میں التفات یار کا قائل نہیں ہوں دوست، کسی کو بھاتی رہی رات بھرچاندنی، شمع جلی پروانے جاگے، ان بہاروں پہ گلستان پہ ہنسی آتی ہے، دھڑکنیں زندگی کے دامن میں، جذبہ سوزطلب کی بیکراں کرتے چلو، خطاوار مروت ہو نہ مر ہون کرم ہوجائے، فضا مغموم ہے ساقی، اس درجہ عشق موجب رسوائی بن گیا، ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں، ہنس نہیں سکتے شگوفے تازگی سے روٹھ کر، ساقی کی ایک نگاہ کے افسانے بن گئے، نگاروں کے میلے ستاروں کے جھرمٹ، ن نہ شان قیصروکسری نہ سطوت کے لا، اشک رواں نہیں ہیں ندامت کے پھول ہیں، غم کی تصویرغزل کے اشعار، چوٹ کھاکر خودشناس وخودنگر ہوجائیے، بدنالی حیات سے رنجور ہوگئے، جام حالات پُر بہارکرو، وقارانجمن ہم سے فروغ پاتا ہے، قید تصورات میں مدت گذرگئی، جام پی کرجودور تک دیکھا، نہ کشتیوں نہ کناروں کا احترام کرو، بگڑا جو نقش زیست بنا شاہکار زیست، موج درموج کناروں کو سزا ملتی ہے، ایک مدت ہوئی اک زمانہ ہوا، سوکھ گئے پت جھڑ میں پات، بن گئے اشک جفا کی تصویر، ارے ناخداؤ! ارے ناخداؤ، موجزن وقت کے دریا میں نوائے درویش، چاندنی اور موتیے کے پھول، شام خزاں کی گم صم بولی، لااک خم شراب کہ موسم خراب ہے، اے سوز دل کے جلوے پہ مکاں مکاں اجالے، میرے تصورات ہیں تحریریں عشق کی، نہ جانے محتسب کیوں میکدے کا نام دیتے ہیں، کتنے غم کتنے دکھ ابھرآئے، ہرمرحلہ شوق سے لہرا کے گزرجا، آب انگور سے وضو کرلو، حادثے کیاکیا تمہاری بے رخی سے ہوگئے، پریشاں عکس ہستی آئینہ بے نور دیکھا ہے، چاندنی کو رسول کہتاہوں، قرب دارکٹادن تو رات کانٹوں پر، لوگ لیتے ہیں یونہی شمع کا نام، پھولوں کو آگ لگ گئی نغمات جل گئے، اے چمن والو، تہذیب جنوں کارپہ تنقید کا حق ہے، تیری نظر کے اشاروں سے کھیل سکتا ہوں، نہ خوف خدا ہے، نظر نظر بیقرار سی ہے، کچھ علاج وحشت اہل نظر، اے دیواروکچھ توبولو، شعلہ رخ مست نظر، انسان بدنصیب مقدر کے بعد، ہرتمنا کا لہو کرتے چلے، ذوق طغیاں میں ڈھل کے دیکھ کبھی، میرے چمن میں بہاروں کے پھول کھلیں گے، سرمقتل ہمیں نغمات کی تعلیم دیتے ہیں، چشم ساقی کی عنایات پہ پابندی ہے، جفاوجور کی دنیا سنواردی ہم نے، ستم جاگتے ہیں کرم سورہے ہیں، سایہ زلف بتاں میں بیٹھو، تغیرات سے دنیا، اٹھتے رہے کلیوں کی جوانی کے جنازے، میں کہ آشفقہ ورسوا سربازار ہوا، حاضر شراب وجام ہیں، اے حسن لالہ فام، ہرشگوفہ سناں کی صورت ہے، جب تصور میں جام آتے ہیں، کیا سماں تھا بہار سے پہلے، وقت کی رنگیں گلدستے، عظمت زندگی کو، غنچے قضائے نو میں گرفتار ہوگئے، منزل غم کی فضاؤں سے لپٹ کر، تیری زلفوں کے پھول، تیری دنیا میں یارب زیست کے، بندگر ہو نہ تیرا، اللہ رے اس چشم عنایات کا جادو، جب گلستان میں بہاروں کے
قدم، اور کچھ لوگ بچھا کرکانٹوں کو، فریاد کے تقاضے ہیں، جلوے مچل رہے ہیں نظاروں کی آگ میں، صراحی جام سے ٹکرائیے، راہزن آدمی رہنما آدمی، کچھ کیف سحر ہے نہ مجھے شام کا نشہ، پھول جلتے ہیں ہارجلتے ہیں، بات پھولوں کی سنا کرتے ہیں، مانگی ہے اس دیارمیں دونوں جہاں کی بھیک، تم نے جوچاہا وہ دنیا بن گئی، وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو، آوارگی برنگ تماشا بری نہیں، رہگذر کے چراغ ہیں ہم لوگ، ضیا ع دل سے خالی ہوگئے ہیں، سب سے تیرا کرم غلیمت ہے، زلفوں کی گھٹائیں پی جاؤ، وہ عزم ہوکہ منزل بیدار ہنس پڑے، جفا جوروستم انتخاب کرلیں گے، یاد آکے رہ گئے ہیں، ہیں کتنی ساز گار زمانے کی تلخیاں، موجیں ہیں اور مادہ گساروں کے، زندگی کا رنگ دنیا ہے، خیال یار نہیں ہم پر بہار، عطا جسے تیرا عکس جمال ہوتا ہے، یہ دنیا ہے یہاں ہر لمحہ تقدیر، میرے آنسو ہیں کسی شام، اے دل بے قرار چپ ہوجا، انقلاب حیات کیا کہیئے، دلوں کو اجالا سحر ہوگئی ہے، تیرے غم کومتاع حسن انساں، ذراگیسوئے یار کھولے گئے، امید کے موتی ارزاں ہیں، اشک رواں نہیں ہیں ندامت، مدعا کچھ نہیں فقیروں کا، فریاد کے تقاضے ہیں نغمہ سخن میں، ان بہاروں پہ گلستاں پہ ہنسی آتی ہے، سوز تصورات تصویر جل گئی، تفریق کے جادو بھی جگایا ہے، زخم دل پر بہار دیکھا ہے، بدنالی حیات سے رنجور ہوگئے، احتیاطافقر کا ہر مرحلہ کٹتا رہا، جو دیوانے سے دو چار نظرآتے ہیں، کھلتے رہیں گے صحن چمن، سوچئے مے کشی کے بارے میں، برگشتہ یزدان سے کچھ بھول ہوئی ہے، ہے دعایا دمگرحرف دعا یا نہیں،پریشاں عکس ہستی آئینہ بے نور دیکھا ہے، تیرے دامن کی ہوا مانگتے ہیں، ہے فغان لالہ وگل مست نظاروں کے ساتھ، تن سلگتا ہے من سلگتا ہے، چمن میں غنچے کھلے ہوئے ہیں، درد کے ماروں پہ ہنستا ہے زمانہ، خون بادل سے برستے، ایک نغمہ ایک تارا، ہر موج ہے افسردہ، وسعت گیسوئے جاناں، جام ٹکراؤ وقت نازک ہے، یہ نہ ہوتا تو بات کچھ بھی نہ تھی، محبت مستقل غم ہے محبت غم کا گہوارہ، یارب ترے جہاں کہ کیا حال، چمن لٹ رہا ہے، دن کٹ گئے جنوں کے آلام، آلام کی یورش میں بھی، شعلے آنچ دھواں اور آگ، آہن کی سرخ تال پر، بھنور آنے کو ہے، سکوت غم سے، متاع کوثروزمزم کے پیمانے، صحن کعبہ بھی یہیں ہے تو صنم خانے بھی، جب سے دیکھا پری جمالوں کو، پھول کی پنکھڑی سرراہ ہے، مٹ گئیں روشنی میں تحریریں، چھپائے دل میں غموں جہاں، کچھ صرف التجا، دل ملا اور غم شناس ملا، نگر نگر میں پھیرااپنا، مول اگر بک جائے ہستی، کاروبار وفا کا نام نالو، یقین کر کہ یہ کہنہ نظام بدلے گا، نکلے صدف کی آنکھ سے موتی، پھول ملیں تو انہیں نغمہ وجھنکارملیں، جل رہا ہے چراغ تنہائی، مضمحل درد غم ہے، آزادیوں کے نام پہ رسوائیاں ملیں، چمن پہ دام درویش مسکراتا ہے، بازار آرزو کی نوا دام چڑھ گئے، جگر کے زخم جاگے ایک شام، اچھال جام کہ تسخیر کائنات، تدبیر کا کاسہ ہے تقدیر، یہ جو شام وسحر کا میلہ ہے، گداقناعت کو بیچتے ہیں، تیری نظر کا رنگ بہانوں نے لے لیا، کلیوں کی مہک ہوتا تاروں کی، گل کو شبنم سے آگ لگ جائے، خیال ہے کہ بجھا دو یہ روشنی کے چراغ، یہ جو دیوانے سے دو چار، جو حادثے یہ جہاں میرے نام، (نظمیں)میرے وطن، چمن چمن، کلیکلی، روش روش پکاردو، میرے وطن کے راہنماء، ترانہ، پاکستان کے سیاستدان،آئین بنایاجائے گا، زخمی مجاہد کی التجا، پاکستانی کے تئیس سنال، عزیزبھٹی شہید کے بیٹے کے نام، 6 ستمبر کے گمنام شہید، سرور شہید، اقصٰی، الفتح کا ایک مجاہد، مثالی شہید، ضرب محمود، لیلٰی خالد، ایک پیکر، انقلاب وقت، عید کا چاند، شاعر، تاریک صدف، میں غزال صید بھی ہوں، ترکشگ صیاد بھی، عورت، مست نظر جوگی، منزل کا مگارتھا گجرات، ماہ پارے قیام کرتے ہیں، بیت، قطعات، رباعیات۔
Tags from this library: No tags from this library for this title. Log in to add tags.
    Average rating: 0.0 (0 votes)
Item type Current location Call number Status Date due Barcode
NPT-Nazir Qaiser Library

891.4391 س ا غ (Browse shelf) Available NPT-011700

کلیات ساغر

(نعتیں) لبوں پہ جس کے محمد کا نام رہتا ہے، یثرب کی رہگذار ہوا درہائے آرزو، دل ونظر میں لیے عشق مصطفٰی آو، اے کاش وہ دن کب آئیں گے، چمک جائےگا تشنگی کا نگینہ، غم کے ماروں کا آسرا تم ہو،آنکھ گلابی منتظر ہے!، ہے تقدیس شمس وقمر سبز گنبد، مائل جورسب خدائی ہے، جب بھی نعت حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کہتا ہوں، یہ کہتی ہیں فضائیں زندگی دو چار دن کی ہے، لیتا ہوں نام خلد کا طیبہ نگر کے بعد، ڈوبنے والوں نے جب نام محمد لے لیا، نہ ہوتا در محمد کا تو دیوانے کہاں جاتے، جس طرف چشم محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اشارے ہوگئے، ہمیں جو یادمدینے کا لالہ زار آیا، سرمایہ حیات ہے سیرت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی، جاری ہے دو جہاں پہ حکومت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی، محمد باعث حسن جہاں ایمان ہے میرا، بزم کونین سجانے کے لیے آپ آئے، گلوں کے اشارے دعاکررہے ہیں، اُس کی لوری کے لیے لفظ کہاں سے لاؤں، (غزلیں) گل ہوئی شمع شبستاں چاند تارے سوگئے، ہم بے خود سرشار سدا زندہ رہیں گے، خاک ہوئے پروانے جل کے، ایسی تجلیاں کہاں ہیں آفتاب میں، ہرتمنا کا چہرہ شفق فام تھا، زندگی رقص میں ہے جھومتی ناگن کی طرح، پھول چاہے تھے مگرہاتھ میں آئے پتھر، ٹرپ کرسوز دل کوجلوہ ساماں کرلیا میں نے، گزرگوں کی دعائیں مل رہی ہیں، ہم خاک نشیں خاک بسر شہر میں تیرے، دُکھ درد کی سوغات ہے دئنیا تری کیا ہے، مسکراؤ بہار کے دن ہیں، میرے چمن کو جہاں میں یہ سرفرازی ہے، شراب تاب کے شیشے کا کاگ کھولا ہے، راہ پر شورسے منزل دار سے، اگرچہ ہم جارہے ہیں محفل سے نالہ دل فگار بن کر، مآل نغمہ ماتم فروخت ہوتا ہے!روشنی ہمیں سے منزل ہستی کے مرحلے، غم کے مجرم کوشی کے مجرم ہیں، بہار سرووسمن فسردہ گلوں کی نکہت تڑپ رہی ہے، آنکھ روشن ہے جیب خالی ہے، دیارلالہوسروسمن سے گزرے ہیں، کوئی تتلی ہے نہ جگنو آہ شام بیکسی، اے تغیر زمانہ یہ عجیب دل لگی ہے، شمع اس راہ پہ چلی ہے ابھی، اس میں شامل دشت وصحرا اور ویرانے کی بات، شعلہ سامان کھلونوں سے بہل جاتا ہے، دستور یہاں بھی اندھے ہیں، سبق تلخی حیات سے گھبرا کے پی گیا، خوشاکہ کی پانچ بہاران ہے زندگی اپنی، تہذیب بے نقاب کی آنکھیں نکال دو، ہم بڑی دور سے آئیں ہیں تمہاری خاطر، نگا معیشت لہورورہی ہے، تاروں سے میرا جام بھرومیں نشے میں ہوں، دوجہانوں کی خبررکھتے ہیں، وقت کی عمر کیا بڑی ہوگی، ہرشے ہے پرملال بڑی تیزدھوپ ہے، چاک دامن کو جو دیکھا تو ملا عید کا چاند، ذرا کچھ اور قربت کے زیرداماں لڑکھڑاتے ہیں، زخم دل پر مباردیکھا، چاندنی شب ہے ستاروں کی ردائیں سی لو، کوئی نالہ یہاں رسانہ ہوا، فضائےنیم شبی کہہ رہی ہے سب اچھا ہے، چراغ طور جلاؤ! بڑا اندھیرا ہے، کب سمان تھا بہار سے پہلے، پوچھا کسی نے حال کسی کا توروڈئیے، نالہ حدود کوئے رسا سے گزرگیا، محفلیں لٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا، بھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجے، روداد محبت کیا کہے، میں التفات یار کا قائل نہیں ہوں دوست، کسی کو بھاتی رہی رات بھرچاندنی، شمع جلی پروانے جاگے، ان بہاروں پہ گلستان پہ ہنسی آتی ہے، دھڑکنیں زندگی کے دامن میں، جذبہ سوزطلب کی بیکراں کرتے چلو، خطاوار مروت ہو نہ مر ہون کرم ہوجائے، فضا مغموم ہے ساقی، اس درجہ عشق موجب رسوائی بن گیا، ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں، ہنس نہیں سکتے شگوفے تازگی سے روٹھ کر، ساقی کی ایک نگاہ کے افسانے بن گئے، نگاروں کے میلے ستاروں کے جھرمٹ، ن نہ شان قیصروکسری نہ سطوت کے لا، اشک رواں نہیں ہیں ندامت کے پھول ہیں، غم کی تصویرغزل کے اشعار، چوٹ کھاکر خودشناس وخودنگر ہوجائیے، بدنالی حیات سے رنجور ہوگئے، جام حالات پُر بہارکرو، وقارانجمن ہم سے فروغ پاتا ہے، قید تصورات میں مدت گذرگئی، جام پی کرجودور تک دیکھا، نہ کشتیوں نہ کناروں کا احترام کرو، بگڑا جو نقش زیست بنا شاہکار زیست، موج درموج کناروں کو سزا ملتی ہے، ایک مدت ہوئی اک زمانہ ہوا، سوکھ گئے پت جھڑ میں پات، بن گئے اشک جفا کی تصویر، ارے ناخداؤ! ارے ناخداؤ، موجزن وقت کے دریا میں نوائے درویش، چاندنی اور موتیے کے پھول، شام خزاں کی گم صم بولی، لااک خم شراب کہ موسم خراب ہے، اے سوز دل کے جلوے پہ مکاں مکاں اجالے، میرے تصورات ہیں تحریریں عشق کی، نہ جانے محتسب کیوں میکدے کا نام دیتے ہیں، کتنے غم کتنے دکھ ابھرآئے، ہرمرحلہ شوق سے لہرا کے گزرجا، آب انگور سے وضو کرلو، حادثے کیاکیا تمہاری بے رخی سے ہوگئے، پریشاں عکس ہستی آئینہ بے نور دیکھا ہے، چاندنی کو رسول کہتاہوں، قرب دارکٹادن تو رات کانٹوں پر، لوگ لیتے ہیں یونہی شمع کا نام، پھولوں کو آگ لگ گئی نغمات جل گئے، اے چمن والو، تہذیب جنوں کارپہ تنقید کا حق ہے، تیری نظر کے اشاروں سے کھیل سکتا ہوں، نہ خوف خدا ہے، نظر نظر بیقرار سی ہے، کچھ علاج وحشت اہل نظر، اے دیواروکچھ توبولو، شعلہ رخ مست نظر، انسان بدنصیب مقدر کے بعد، ہرتمنا کا لہو کرتے چلے، ذوق طغیاں میں ڈھل کے دیکھ کبھی، میرے چمن میں بہاروں کے پھول کھلیں گے، سرمقتل ہمیں نغمات کی تعلیم دیتے ہیں، چشم ساقی کی عنایات پہ پابندی ہے، جفاوجور کی دنیا سنواردی ہم نے، ستم جاگتے ہیں کرم سورہے ہیں، سایہ زلف بتاں میں بیٹھو، تغیرات سے دنیا، اٹھتے رہے کلیوں کی جوانی کے جنازے، میں کہ آشفقہ ورسوا سربازار ہوا، حاضر شراب وجام ہیں، اے حسن لالہ فام، ہرشگوفہ سناں کی صورت ہے، جب تصور میں جام آتے ہیں، کیا سماں تھا بہار سے پہلے، وقت کی رنگیں گلدستے، عظمت زندگی کو، غنچے قضائے نو میں گرفتار ہوگئے، منزل غم کی فضاؤں سے لپٹ کر، تیری زلفوں کے پھول، تیری دنیا میں یارب زیست کے، بندگر ہو نہ تیرا، اللہ رے اس چشم عنایات کا جادو، جب گلستان میں بہاروں کے

قدم، اور کچھ لوگ بچھا کرکانٹوں کو، فریاد کے تقاضے ہیں، جلوے مچل رہے ہیں نظاروں کی آگ میں، صراحی جام سے ٹکرائیے، راہزن آدمی رہنما آدمی، کچھ کیف سحر ہے نہ مجھے شام کا نشہ، پھول جلتے ہیں ہارجلتے ہیں، بات پھولوں کی سنا کرتے ہیں، مانگی ہے اس دیارمیں دونوں جہاں کی بھیک، تم نے جوچاہا وہ دنیا بن گئی، وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو، آوارگی برنگ تماشا بری نہیں، رہگذر کے چراغ ہیں ہم لوگ، ضیا ع دل سے خالی ہوگئے ہیں، سب سے تیرا کرم غلیمت ہے، زلفوں کی گھٹائیں پی جاؤ، وہ عزم ہوکہ منزل بیدار ہنس پڑے، جفا جوروستم انتخاب کرلیں گے، یاد آکے رہ گئے ہیں، ہیں کتنی ساز گار زمانے کی تلخیاں، موجیں ہیں اور مادہ گساروں کے، زندگی کا رنگ دنیا ہے، خیال یار نہیں ہم پر بہار، عطا جسے تیرا عکس جمال ہوتا ہے، یہ دنیا ہے یہاں ہر لمحہ تقدیر، میرے آنسو ہیں کسی شام، اے دل بے قرار چپ ہوجا، انقلاب حیات کیا کہیئے، دلوں کو اجالا سحر ہوگئی ہے، تیرے غم کومتاع حسن انساں، ذراگیسوئے یار کھولے گئے، امید کے موتی ارزاں ہیں، اشک رواں نہیں ہیں ندامت، مدعا کچھ نہیں فقیروں کا، فریاد کے تقاضے ہیں نغمہ سخن میں، ان بہاروں پہ گلستاں پہ ہنسی آتی ہے، سوز تصورات تصویر جل گئی، تفریق کے جادو بھی جگایا ہے، زخم دل پر بہار دیکھا ہے، بدنالی حیات سے رنجور ہوگئے، احتیاطافقر کا ہر مرحلہ کٹتا رہا، جو دیوانے سے دو چار نظرآتے ہیں، کھلتے رہیں گے صحن چمن، سوچئے مے کشی کے بارے میں، برگشتہ یزدان سے کچھ بھول ہوئی ہے، ہے دعایا دمگرحرف دعا یا نہیں،پریشاں عکس ہستی آئینہ بے نور دیکھا ہے، تیرے دامن کی ہوا مانگتے ہیں، ہے فغان لالہ وگل مست نظاروں کے ساتھ، تن سلگتا ہے من سلگتا ہے، چمن میں غنچے کھلے ہوئے ہیں، درد کے ماروں پہ ہنستا ہے زمانہ، خون بادل سے برستے، ایک نغمہ ایک تارا، ہر موج ہے افسردہ، وسعت گیسوئے جاناں، جام ٹکراؤ وقت نازک ہے، یہ نہ ہوتا تو بات کچھ بھی نہ تھی، محبت مستقل غم ہے محبت غم کا گہوارہ، یارب ترے جہاں کہ کیا حال، چمن لٹ رہا ہے، دن کٹ گئے جنوں کے آلام، آلام کی یورش میں بھی، شعلے آنچ دھواں اور آگ، آہن کی سرخ تال پر، بھنور آنے کو ہے، سکوت غم سے، متاع کوثروزمزم کے پیمانے، صحن کعبہ بھی یہیں ہے تو صنم خانے بھی، جب سے دیکھا پری جمالوں کو، پھول کی پنکھڑی سرراہ ہے، مٹ گئیں روشنی میں تحریریں، چھپائے دل میں غموں جہاں، کچھ صرف التجا، دل ملا اور غم شناس ملا، نگر نگر میں پھیرااپنا، مول اگر بک جائے ہستی، کاروبار وفا کا نام نالو، یقین کر کہ یہ کہنہ نظام بدلے گا، نکلے صدف کی آنکھ سے موتی، پھول ملیں تو انہیں نغمہ وجھنکارملیں، جل رہا ہے چراغ تنہائی، مضمحل درد غم ہے، آزادیوں کے نام پہ رسوائیاں ملیں، چمن پہ دام درویش مسکراتا ہے، بازار آرزو کی نوا دام چڑھ گئے، جگر کے زخم جاگے ایک شام، اچھال جام کہ تسخیر کائنات، تدبیر کا کاسہ ہے تقدیر، یہ جو شام وسحر کا میلہ ہے، گداقناعت کو بیچتے ہیں، تیری نظر کا رنگ بہانوں نے لے لیا، کلیوں کی مہک ہوتا تاروں کی، گل کو شبنم سے آگ لگ جائے، خیال ہے کہ بجھا دو یہ روشنی کے چراغ، یہ جو دیوانے سے دو چار، جو حادثے یہ جہاں میرے نام، (نظمیں)میرے وطن، چمن چمن، کلیکلی، روش روش پکاردو، میرے وطن کے راہنماء، ترانہ، پاکستان کے سیاستدان،آئین بنایاجائے گا، زخمی مجاہد کی التجا، پاکستانی کے تئیس سنال، عزیزبھٹی شہید کے بیٹے کے نام، 6 ستمبر کے گمنام شہید، سرور شہید، اقصٰی، الفتح کا ایک مجاہد، مثالی شہید، ضرب محمود، لیلٰی خالد، ایک پیکر، انقلاب وقت، عید کا چاند، شاعر، تاریک صدف، میں غزال صید بھی ہوں، ترکشگ صیاد بھی، عورت، مست نظر جوگی، منزل کا مگارتھا گجرات، ماہ پارے قیام کرتے ہیں، بیت، قطعات، رباعیات۔

In Urdu

Hbk.

There are no comments on this title.

to post a comment.